Wednesday, August 20, 2014

A poem by Parvin Shakir

ابھی تو بات لمحوں تک ہے
سالوں تک نہیں آئی
ابھی مسکانوں کی نوبت بھی نالوں تک نہیں آئی
ابھی تو کوئی مجبوری خیالوں تک نہیں آئی
ابھی تو گرد پیروں تک ہے بالوں تک نہیں آئی
کہو تو لوٹ جاتے ہیں
... چلو اک فیصلہ کرنے شجر کی اور جاتے ہیں
ابھی کاجل کی ڈوری سرخ گالوں تک نہیں آئی
زباں دانتوں تلک ہے زہر پیالوں تک نہیں آئی
ابھی تو مشک کستوری غزالوں تک نہیں آئی
ابھی روداد بے عنواں
ہمارے درمیاں ہے، دنیا والوں تک نہیں آئی
کہو تو لوٹ جاتے ہیں
ابھی نزدیک ہیں گھر اور منزل دور ہے اپنی
مبادا نار ہو جائے یہ ہستی نور ہے اپنی
کہو تو لوٹ جاتے ہیں
یہ رستہ پیار کا رستہ
رسن کا دار کا رستہ بہت د شوار ہے جاناں
کہ اس رستے کا ہر ذرہ بھی اک کہسار ہے جاناں
کہو تو لوٹ جاتے ہیں
میرے بارے نہ کچھ سوچو، مجھے طے کرنا آتا ہے
رسن کا دار کا رستہ
یہ آسیبوں بھرا رستہ، یہ اندھی غار کا رستہ
تمہارا نرم و نازک ہاتھ ہو اگر میرے ہاتھوں میں
تو میں سمجھوں کہ جیسے دو جہاں ہیں میری مٹھی میں
تمہارا قرب ہو تو مشکلیں کافور ہو جائیں
یہ اندھے اور کالے راستے پر نور ہو جائیں
تمہارے گیسوئوں کی چھائوں مل جائے
تو سورج سے الجھنا بات ہی کیا ہے
اٹھا لو اپنا سایہ تو میری اوقات ہی کیا ہے
میرے بارے نہ کچھ سوچو
تم اپنی بات بتلاؤ
کہو تو چلتے رہتے ہیں
کہو تو لوٹ جاتے ہیں۔۔۔

No comments:

Post a Comment